دیوار تھے جو لوگ انہیں كان کر دیا
ایسی غزل کہی تھی کہ حیران کر دیا

میرے تمام درد چھپائے نہیں چھپے
آنکھوں نے میرے ضبط کا نقصان کر دیا

پہلے پہل شریف تھے نادان بھی تھے ہم
اس نازنیں نے ہم کو تو شیطان کر دیا

خنجر ہے آستین میں مسکان چہرے پر
یعنی کہ دوستوں نے پشیمان کر دیا

جانے وہ کون لوگ ہیں جو ہو گئے خراب
ہم کو تو عاشقی نے مسلمان کر دیا