یونہی تو نہیں رنگ ابھی زرد ہمارا
پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا درد ہمارا

قاتل کو کوئی روکنے آیا نہیں اور اب
ہر گھر سے نکل آیا ھے ہمدرد ہمارا

رہتی ہے وفا گرم وریدوں میں ہماری
ہوتا نہیں ہے ہاتھ کبھی سرد ہمارا

ہم تھے تو ہمیں چُھو کے گزر جاتی تھی اکثر
اب پوچھتی پھرتی ھے پتہ گرد ہمارا

دل اتنا تو کمزور نہ تھا عشق سے پہلے
اس عشق نے روندا ہے جوانمرد ہمارا

صد شکر کہ نسبت ھے حسین ابن علی سے
اعزاز سے بڑھ کر ھے ہمیں درد ہمارا
فرحت عباس شاہ