زمین ِ جسم میں
دردوں کی بارودی سرنگیں ہیں
کبهی گولی کی صورت
غم اترتا ہے جو سینے میں
تو ایسے ذہن کے اندر سے سناٹے گزرتے ہیں
محاذ ِجنگ کو جیسے
ہزاروں ٹینک جاتے ہوں
چلی آتی ہیں تنہائی کی فوجیں
روندنے دل کو
دهنا دهن گرنے لگتے ہیں
الم کے توپخانے سے
اداسی کے کئی چنگهاڑتے گولے
اجڑتے دل کی دهرتی پر
کبهی جنگی جہازوں کی طرح آتے ہیں
ماضی کے حسیں قصے
دکهوں کے بم
دهماکے کرنے لگتے ہیں
بدن میں پهٹنے لگتے ہیں
اچانک ایک زناٹے سے
مایوسی کا راکٹ آن گرتا ہے
زمین ِ یاد جلتی ہے
دهواں آنکهوں تک آتا ہے
امیدوں کی جلی چیخیں نکلتی ہیں
فصیلِ جاں لرزتی ہے
تهکے ہاتهوں میں تهاما ضبط کا پرچم
زمیں پر گرنے لگتا ہے
جوابی کاروائی میں
یہی کچھ اپنے بس میں ہے
بس اک یلغار اشکوں کی
I am happy to be here and well wishes for the team
thank you so much for supporting our team, sir!