سفر دائرہ ہے
نہ آغاز کوئی نہ انجام ہے
ہر گھڑی
بس گھڑی کی طرح چلتے رہنا
مسافر کی سانسوں کا انعام ہے
ایسے لگتا ہے منظر نیا ہے
بدلتی ہیں سمتیں
مگر دائرہ وار چلتے ہوئے
کیسی سمتیں ؟
مناظر بدلتے نہیں
اور نگاہیں کسی رخ پہ جمتی نہیں
بے جہت، بے بصر
ہر سفر بے نشاں کی طرف ہے
مگر رائگاں ہے
سرابوں کی دلدل میں دھنسنے کی
آنسو بھری داستاں ہے