جنگ کی فضا میں سب سے زیادہ ضروری کیا ہے؟ دو چیزیں۔ ہو ش مندی اور مستقبل کے تخیل کو برقرار رکھنا۔ یہی دو چیزیں مشکل بھی ہیں۔
جنگ ہی نہیں جنگ کا خطرہ بھی مشکلات کے کئی سلسلوں کو جنم دیتاہے۔
جنگ کی فضا کے بادل ، متشددانہ ومنتقمانہ الفاظ کی صورت منڈلانا شروع کرتے ہیں،اور کسی بھی وقت محض ایک واقعہ اور ایک لفظ ،کسی جنگ کا نقطہ آغاز بن جایا کرتا ہے۔ اس نقطہ آغاز کو رونما ہونے سے روکنا ہمارے بس میں خواہ نہ ہو، مگر اس کی سعی کرنا لازم ہے۔
جہاں جنگ کی فضا کے بادل گھنے سیاہ ہونے شروع ہونے لگیں،وہاں ہوش مندانہ گفتگو کی ضرورت سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
جہاں غصے ، اشتعال ، نفرت کا لاوا ابل رہا ہو، اس کے متوازی نرمی ،شائستگی ،ہم دردی ،دلیل پر مبنی ایک مکمل ڈسکورس کی ضرورت کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ اشتعال کی زبان پہلے ہی لمحے ، ہوش مندی اور مستقبل بینی کی صلاحیت کو معطل کیا کرتی ہے۔
مشتعل لوگ،اپنی حقیقی طاقت سے کہیں بڑھ کر خود کو طاقت ور سمجھنے لگتے ہیں،اورمستقبل میں رونما ہونے والی بربادی کے مناظردیکھنے والا تخیل باقی نہیں رہتا۔
اس تخیل کو باقی رکھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس تخیل سے کام لینے کی بہت ضرورت ہوتی ہے،اور اس تخیل نے جہاں جہاں اظہار کیا ہے، اس کے ذکر کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔
مقدس انجیل کی ’’امثال ‘‘ میں ایک آیت ہے: ’’احمق کو اس کی حماقت کے مطابق جواب نہ دے،مبادا تو بھی اس کی مانند ہو جائے‘‘۔
جنگ کی فضا میں یہ سمجھانامشکل ہوتا ہے کہ کسی بھی حماقت کا جواب، حماقت ہے ،نہ طاقت، مگر اس سچائی کو دہرانا بہت ضرور ی ہے۔
جنگوں کو کہانیاں اور شاعری بڑھاوا بھی دیتی ہے ،اور جنگ کے خطرات کو کم کرنے میں بھی یہ دونوں از حد مدد دے سکتی ہیں۔ شاعری ،اس تخیل کو زندہ رکھتی ہے جسے جنگ پسند ، معطل کردیا کرتے ہیں۔
پابلو نرودا نے اپنی نظم ’’میں چند باتوں کی وضاحت کررہا ہوں ‘‘ سپین کی عوامی جنگ کے پس منظر میں لکھی تھی۔وہ آج ہمارے لیے اہم محسوس ہوتی ہے۔
ایک دن صبح سویرے
ہر شے جلنے لگی
ایک صبح آگ زمین سے اچھل کر
انسانوں کو نگلنے لگی
اور اس وقت سے، بس آگ
بس بارود
بس خون
…..
دیکھو میرا گھر تباہ ہوگیا ہے
مجھے مت کہو شاعری سے محبت کرنے کے لیے
نہیں،میں تمھیں نہیں دے سکتا کوئی نظم
بس خون ،
بس ظلم،
بس راکھ دے سکتا ہوں
اس بات کو بار بار دہرانے کی ضرورت ہے کہ اس کرہ ارض کے تمام انسان بنگلہ شاعر شمس الرحمان کے مطابق،‘‘خون کی دلدلوں میں مرنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے؛ وہ جینے ، محبت کرنے ، درخت اگانے ، گانے اور خواب دیکھنے کے لیے پید ا ہوئے ہیں‘‘۔
اسی شاعر کی ایک نظم کی یہ سطریں بھی ہیں:
اے جنگ کے سوداگرو
تمھارے لیے ہمارے لبوں پر
خامشی نہیں
نہ ہی دعا
ہماری زبانوں پر ایک ہی صدا ہے
نہیں
نہیں
نہیں
ناصر عباس نیّر
اپریل ۲۰۲۵ء