کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

یہ شعر علامہ کی مشہور نظم “جواب شکوہ” سے لیا گیا ہے شکائت کنندہ کو بارگاہِ ایزدی سے جواب ملتا ہے کہ ہم اپنی طرف سرگرداں لوگوں کی اپنی راہ ضرور دکھاتے ہیں اور اگر کوئی واقعی اس قابل ہو تو ہم سے “شان کئی” سے بھی نوازتے ہیں۔ پاکستان میں ویسے تو بڑے پیمانے میں “شان کئی” کا مطلب “کئی قسم کی شانیں” لیا جاتا ہے جس کا اظہار اکثر ہمیں تشریحات میں ملتا ہے۔ تاہم یہاں لفظ “کئی” غور طلب ہے۔ ’’ شان کئی‘‘سے مراد کیانی خاندان کے بادشاہوں جیسی عظمت اور شان و شوکت ہے۔ اس خاندان نے ایک طویل عرصے تک ایرانِ قدیم پر حکومت کی جس کے ہر بادشاہ کے نام سے پہلے “کے” کا لفظ آتا تھا ۔ مثلاً کیخسرو، کیکاوس، کیقباد وغیرہ۔ لفظ “کئی” کا مادہ بھی “کے” ہے جس کا مطلب “بادشاہ” یا “حکمران” ہے۔ یوں “کیخسرہ” کا مطلب “بادشاہ خسرو” ہے جس کو ہم انگریزی میں Khusro the King (بمطابق Alexander the Great) کہتے ہیں۔ کیانی خاندان کے بانی کا اصل نام “قباد” تھا، لیکن “کے” کے لاحقے کے بعد یہ “کیقباد” بن گیا یعنی “بادشاہ قباد”۔ یہ سب ایران میں اسلام کی آمد سے پہلے کی تاریخ ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کہ خاندان اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھا اوراس سے منسلک لوگ موجودہ ایران، افغانستان اور ترکی کے علاقوں میں بکھر گئے۔ ان میں سے ایک قابل ذکر شاخ ایشیا کوچک (موجودہ ترکی) کے علاقے میں آ بسی جس کے لوگ بعد ازاں اپنے اسی تاریخی پس منظر کے باعث “کائی قبیلہ” کے طور پر مشہور ہوے۔ تاہم نام کے ساتھ “کے” بمعنی “بادشاہ”، کا لاحقہ لگانے کی روایت اس علاقے کے مسلماں حکمرانوں کے ہاں تادیر قائم رہی یہی وجہ ہے کہ سلجوق خاندان کے آخری بااثر حکمرآن کا پورا نام بھی سلطان علاء الدین کیقباد تھا۔ واضح رہے کہ یہ وہی علاء الدین کیقباد ہے جس کا ذکر “ارطغرل” ڈرامے میں بھی ہے اور جس کا ایک سپہ سالار کارا تغرل بھی ہے۔ لہذا علامہ اپنے شعر میں اس تاریخی شان و شوکت کا ذکر کر رہے ہیں جو کیانی خاندان کو حاصل تھی اور بعد میں جس کی بازیافت کے لیے کائی قبیلے نے کلیدی کردار ادا کیا تاہم اس بنیادی فرق کے ساتھ کہ کیانی خاندان کے برعکس، کائی ایک مسلمان قبیلہ تھا۔