(نذرِ ثروت)

جو کم سے بھی کمتر ہے اُسے دیکھ مجھے دیکھ
تو جس کو میسر ہے اُسے دیکھ مجھے دیکھ

یہ شخص کسی اور زمانے میں بھی ہوگا
آیئنہ برابر ہے اُسے دیکھ مجھے دیکھ

میں لخت جگر دست پدر کا ہوں نوالہ
جس ہاتھ میں خنجر ہے اُسے دیکھ مجھے دیکھ

یوں سیپ کے سینے میں کھنکتا ہوا مصرع
موتی ہے کہ کنکر ہے اُسے دیکھ مجھے دیکھ

پتھر کے زمانے سے یہی کانچ کا دل ہے
صحرا میں کبوتر ہے اُسے دیکھ مجھے دیکھ