تعارف

ادبی دنیا میں فیروز آفریدی کے نام سے پہچانے جانے والے مشہور شخصیت کا اصل نام فیروز خان ہے۔ موصوف 10 اپریل 1960 کو علم گدر باڑہ خیبر (موجودہ ضلع خیبر) میں ایک عام سے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے گورنمنٹ ہائی سکول علم گدر باڑہ سے 1977 میں میٹرک پاس کیا۔ بعد میں پرائیویٹ طور پر ایف اے اور بی اے کیا اور 1984ء میں گورنمنٹ پرائمری سکول سپین قبر باڑہ میں استاد تعینات ہوئے لیکن ستمبر 1984 میں قطر جانے کی وجہ سے سکول کی نوکری چھوڑ دی۔ تب ہی سے آپ قطر ہی میں مقیم ہیں۔ موصوف میرے والد محترم شیر رحمان صاحب کے قریبی دوست ہیں اور ان کے ہاں آنا جانا بھی لگا رہتا ہے۔ حال ہی میں عیدالفطر کے موقع پر ہم آپ کے حجرے گئے تھے اور آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔

ادبی خدمات

فیروز خان آفریدی نے افسانے، رپورتاژ، خاکہ اور ناول پر طبع آزمائی کی ہے۔ آپ دستار انٹرنیشنل پشتو مجلہ کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ اس مجلے کی اشاعت 2004 سے لیکر 2008 تک جاری رہی۔ پھر ان کی ادارت میں پشتو مجلہ “ښکلې پیښور” کی اشاعت 2009 سے 2014 تک جاری رہی۔ آپ اس مجلے کو بطور چیف ایڈیٹر چار سالوں تک چھاپتے رہے۔ فیروز صاحب 15 سال تک دوحہ قطر کے ایک فعال تنظیم پاک پشتو ادبی ٹولنہ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ پاکستان کے جتنے بھی بڑے شعرا و ادبا ہیں، ان میں زیادہ تر کی میزبانی کا شرف بھی ان کو حاصل ہے۔

کتابیں

  1. جګې شملې
  2. د وطن پہ ګل درو کے
  3. د ستړي ژوند ساندے او سندرے
  4. زر چاڼ
  5. د صحرا بادونه
  6. بگڑا (ناول)
  7. ژوند سفر سفر (ژوند ليک)
  8. روښانه سباؤن
  9. بختورہ (ژباړه)
  10. بنتِ داهر (ژباړه)

کتاب کا تعارف

“یادوں کے دریچوں سے” فیروز صاحب کی کتاب ہے جو دسمبر 2024 میں شائع ہوئی۔ مذکورہ کتاب جس کا انتساب ان کے والد محترم لعل خان آفریدی صاحب کے نام ہے، 216 صفحات پر مشتمل ہے۔

موضوعات

کتاب میں کُل 48 مضامین ہیں، جو بہت دلچسپ موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ چاہے تعلیم ہو یا ذاتی زندگی، شعر و سخن ہو یا بیرون ملک زندگی کے احوال، پشاور شہر کے احوال ہو یا قبائلی علاقوں کے آنکھوں دیکھے حالات، تاریخی مقامات کی تفصیل ہو یا مشہور شخصیات کا مختصر تعارف، غرض فیروز صاحب نے اس کتاب میں مختلف موضوعات پر کمال مہارت سے تفصیل درج کی ہے۔ “گورا قبرستان” (صفحہ 48) ایک زبردست تحریر ہے جس میں انہوں نے اس مشہور اور تاریخی قبرستان کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ اِسی طرح صفحہ 23 پر “بنتِ داہر” کے نام سے ایک مضمون شائع ہے جس میں صفدر زیدی صاحب کے مشہور ناول “بنتِ داہر” پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس ناول کا فیروز صاحب نے پشتو ترجمہ بھی لکھا ہے جو فی الحال شائع نہیں ہوا۔ اسی طرح صفحہ 59 پر “نغماتِ کوہسار” کتاب پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موصوف کہیں پر افغان بچوں کی بدبختی کا رونا رو رہے ہیں تو کہیں پر قبائلیوں کی کھٹن زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔
(باقی موضوعات کے بارے میں جاننے کے لیے فہرست کی تصاویر ملاحظہ فرمائیں.)

زبان و بیان

فیروز صاحب کا اندازِ بیان سادہ اور عام فہم ہے۔ ایک عام قاری کو ان کی کہی ہوئی باتیں آسانی سے سمجھ آسکتی ہیں۔ کتاب میں مشکل الفاظ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بعض مواقع پر طنز و مزاح کا بھی خوب استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض جگہوں پر موضوع سے متعلق شعر بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔

نوٹ

یہ کتاب میرے لئے اس لئے بھی اہمیت کے حامل ہے کہ اس کی اشاعت میں میں نے بذاتِ خود بحیثیت پروف ریڈر کام کیا ہے۔ چوں کہ فیروز صاحب نے کتاب مجھے اشاعت سے پہلے یوں ہی بھیج دی تھی لیکن جب میں نے کتاب پڑھنا شروع کیا تو محسوس ہُوا کہ کتاب میں چھوٹی موٹی غلطیاں موجود ہیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے موصوف کو اطلاع دی کہ یہ ماجرا ہے، لیکن یہ ان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انھوں نے نہ صرف میرا شکریہ ادا کیا بلکہ میری بہت ڈھارس بھی بندھائی۔ پھر میں نے خوب ذوق و شوق سے کتاب کا مطالعہ کیا اور ممکن حد تک غلطیاں ٹھیک کیں۔ اس کا صلہ انھوں نے مجھے یوں دیا کہ میرا نام انہوں نے کتاب میں بطورِ پروف ریڈر لکھ لیا جو میرے لئے بہت فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ کتاب کی اشاعت کے بعد (عیدالفطر پر ملاقات کے وقت) انہوں نے مجھے اسی کتاب کی دو کاپیاں بشمول اور کتابوں کے تحفے میں دیں۔

پی ڈی ایف

مذکورہ کتاب میرے پاس پی ڈی ایف میں موجود ہے، لیکن یہ وہ کاپی ہے جس میں غلطیاں ٹھیک نہیں ہوئی تھیں۔ اگر کتاب کسی کو پی ڈی ایف میں چاہیے تو (فیروز صاحب کی اجازت سے) میں کتاب شیئر کرسکتا ہوں۔

خلاصہ

فیروز صاحب بیرونِ ملک محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ پشتو اور اردو ادب کی ترویج کے لئے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ “یادوں کے دریچوں سے” ان کی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے عام فہم لہجے میں مختلف موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب میں چوں کہ طنز و مزاح موجود ہے اس لیے تفریح کے لیے بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ پشتون معاشرے اور قبائلی علاقوں کا آنکھوں دیکھا حال جاننے کے لیے بھی یہ ایک مفید کتاب ہے۔