شہر ہے جیسے فلک بوس کباڑی کی دکاں
اس میں ہیں وقت کے کچرے پہ پڑے لعل و گہر
اس سے اٹھتا ہے دھواں حسرت و ناکامی کا
خواب کی پنسلیں، آزردہ حوالوں کے خطوط
کچھ لفافوں میں پس انداز حیاتوں کا لہو
خواہشیں ٹوٹی پلیٹوں کی طرح نوک آور
دفتری عشق، کوئی فلمی رسالہ، کوئی جگ
ان کے پہلو میں پڑی خلعتِ شہزادۂ وقت
جا بجا تیلیاں ماچس کی پڑی ہیں بکھری
کچھ سِمیں جن سے کوئی کال نہیں کر سکتا
ہڈیاں جن پہ لہو ثبت ہے جیسے کوئی ٹیگ
یادوں کے آہنی مفلر بھی پڑے ہیں اس پر
جن پہ آسودہ زمانوں کی لکھی ہے تحریر،
پاس ہی گولیاں پستول کی کچھ ادھ جلے نوٹ
ایک انسان ہے اور ایک سگِ فاقہ کش
ڈھیر پر دُور تلک بھوک کا پہرہ ہے لگا
دیکھیے آنکھ جھپکتا ہے بھلا پہلے کون