آؤ ،یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا واقعی “نقاد کا کام اچھے ادب کی تشویق پید اکرنا ہے”؟کیا نقاد کا یہ بنیادی کام ہے یااس کے کام کے حاصلات میں سے ایک ہے ؟ یہ دونوں مختلف باتیں ہیں۔بنیادی کام اوراس کے حاصلات میں فرق رو ارکھنا چاہیے۔بہت سے حاصلات میں سے ایک حاصل کو کسی چیز کی ماہیت کے لیے حکم کیسے بنایا جاسکتا ہے؟بنیادی کام ،وہ کام ہے، جہاں سے کوئی چیز اپنے ہونے کا جواز حاصل کرتی ہے؛جس کے بغیر اس چیز کا موجود ہونا اور اپنے ہونے کے معنی متعین کرنا محال ہے۔ تنقید کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ کسی تحریر کے فن پارے کے طور پر قائم ہونے کے اصولوں کا محاکمہ کرے اور ان اصولوں کے بارے میں کسی ابہام کا شکا ر نہ ہو؛صاف لفظوں میں،تنقید ادب کے سرچشمے تک پہنچے؛ فن پارے کے معانی اوران معانی کی تشکیل کے پیچیدہ عمل کا تجزیہ کرے۔ کوئی فن پارہ، فن پاروں کی بھیڑ میں کیسے اور کتنی جگہ بناتا ہے، اس پر غیر مبہم رائے دے۔ وہ دنیا سے کسی نئی ، مگر فن پارے کے لیے ناگزیرزبان میں بات کرتاہے یا مانگے تانگے کی زبان میں ، اسے واضح کرے۔ وہ انسانوں کی تنہائی میں ، ان کی روحوں سے سرگوشی کی صلاحیت رکھتا ہے کہ نہیں؛ وہ جن چیزوں کاانکار کرتے ہیں، یا جن سے فرار اختیار کرتے ہیں، اور اپنے انکار وفرار کے سو طرح کے جواز گھڑتے ہیں،ان کے روبرو انھیں لاتا ہے کہ نہیں۔مت بھولو کہ صرف وہی ادب ،دنیا کے بدلنے میں حصہ لے سکتا ہے،جو ہماری تنہائی میں ،ہم سے کلام کرسکتا ہے۔ اس بنیادی کام کے احسن طریقے سے انجام دینے کے حاصلات کئی ہیں۔ لوگ ،تنقید کے نتیجے میں کچھ تحریروں کی طرف متوجہ ہوں، یہ محض ایک حاصل ہے،اور اس کی اہمیت سے نکار نہیں