مدتوں بعد کوئی کام جو آیا ہے وہاں
دل تڑپ اٹھا ہے اور آنکھ گریزاں ہے مری

میں کہ اس شہر سے مانوس ہوں اک عرصے سے
ہر گلی راستہ بازار، مرے ذہن میں ہیں
لیکن اب عمر کے اس دور میں آیا ہوں جہاں
سہما سہما سا نکل پڑتا ہوں اس شہر کی اور
اور وہ شہر جو کانٹوں سے بھرا لگتا ہے
اب کہیں بھی نہیں لگتا ہے وہاں دل میرا
دل سلگتا ہے مرا روح بھی بے چین سی ہے
کچھ تقدس کا نہیں ڈر نہ کہیں کھونے کا
دوست اتنے ہیں وہاں جام کا کچھ خوف نہیں
رند اتنے ہیں کہ چل کر ہی بہک جائیں گے

گر مجھے ڈر ہے تو بس تیری ملاقات سے ہے
تجھ سے ملنے سے جڑی میری مکافات سے ہے

ایسا ممکن تو نہیں تھا مگر اب لگتا ہے
میں ترے شہر میں آتا ہوں تو ڈر لگتا ہے