کہنے والے کہتے ہیں کہ
درد کا موسم ڈھل جانے کے
دور تلک آثار نہیں ہیں
اپنا حال سنبھل جانے کے
رستے تک ہموار نہیں ہیں
پر ہم چاک دل و جاں والے
خار و خار گلستاں والے
ایسے کافر ٹھہرے ہیں کہ
کچھ محو اقرار نہیں ہیں
ماننے کو تیار نہیں ہیں

اور کوئی کفر کی وجہ پوچھے
تو بس اتنا کہہ دیتے ہیں
ہم کوئی نادار نہیں ہیں
ہم کو خدا سے خط آیا ہے

شوق کی راہ پر چلتے رہنا”
شوق کی راہ پر چلتے چلتے
ایک زمانہ آئے گا، جب
درد کا موسم ڈھل جائے گا
خواب کا پیچھا کرتے کرتے
ایک ٹھکانہ آئے گا، جب
سارا حال سنبھل جائے گا
جن کی دیر سے آس ہے تم کو
وہ گل آخر کھل جائیں گے
دل اور جاں کے چاک ہیں جتنے
“معجزہ ہو کر سل جائیں گے