ہر وقت نہیں بس کبھی کبھار انسان کو لگتا ہے کہ اس کے اردگرد دنیا کا شور حد سے زیادہ ہو گیا ہے حالانکہ یہ شور باہر کی دنیا کا نہیں اس کے اندر کی دنیا میں جاری جنگ اور جد وجہد کا ہوتا ہے۔ وہ اس شور سے دور ہونے کے لیے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے لیکن یہ شور اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور اس کو بہت دوڑا دیتی ہے۔ پھر جب انسان کو محسوس ہو جاتا ہے کہ اب کہیں بھی کوئی پناہگاہ نہیں بچا تو وہ ایک در پہ جا کے اپنا سر جھکا لیتا ہے اور آنکھوں میں آنسوؤں کے نذرانے پیش کر کے کہتا ہے میرے محبوب! میں آ گیا، میرے پیارے اللّٰه! میں آ گیا تیرے پاس ٹوٹ کر، بکھر کر، خود سے اور دنیا سے بیزار ہو کر۔ میرے رحیم رب! مجھے اب نہ چھوڑنا۔ یہ وہ در ہے جہاں انسان تمام تر شور و شر سے رہائی پا لیتا ہے اور سکون اس کو اپنی آغوش میں ایسے لے لیتا ہے جیسے کوئی ماں اپنے روٹھے تھکے ہوئے بچے کو نہارتی ہے۔