سمندروں سے بھی ہے بیکراں حسین کا غم
کرے گا کیا کوئی شاعر بیاں حسین کاغم

کلیجہ کٹتا ہے اک لاش کے اٹھانے پر
کہاں بساط ہماری کہاں حسین کا غم

ادھیڑ کر چلاجائے گا جیسے پل بھر میں
زمین قلب کو اسپ جواں حسین کا غم

کسی کے تشنہ لبوں پر جمی ہوئی پپڑی
کسی کی آنکھ میں آب رواں حسین کا غم

یہ دیکھ کر انہیں اس سال بھی ہوا صدمہ
یہاں حسین کا غم ہے وہاں حسین کا غم

یہ کتنی سادہ و آسان بات ہے لوگو
جہاں نبی کی محبت وہاں حسین کا غم

ہمیں تلاش کرو گے تو جا بجا ہم ہیں
ہمارا نام ، ہمارا نشاں حسین کا غم

اسی لیے تو مجھے کوئی خوف خطرہ نہیں
مری امان ، مرا سائباں حسین کاغم

اسی لیے تو مری شاعری میں برکت ہے
مرے غموں کا رہا نگہباں حسین کا غم

خدا کا شکر کہ میں سرخرو ہوا فرحت
صف بتول ہے اور آسماں حسین کا غم
فرحت عباس شاہ