مصنف: جارج آرویل
مترجم: قیصر عالم
کردار
مسٹر جونز: اینیمل فارم کے (انسان) مالک
میجر: بوڑھا سوّر
سنوبال: عقل مند اور انقلاب کے داعی سوّر
نپولین: چالاک اور آتش مزاج سوّر
سکویلر: موٹا باتونی سوّر جو سیاہ کو سفید ثابت کرنے کی قدرت رکھتا ہے
باکسر: قوی ہیکل اور طاقتور گھوڑا جوکہ حقیقت میں عقل سے پیدل تھا.
کہانی کی ابتدا بوڑھے سوّر ‘میجر’ کے خواب سے ہوتی ہے جو اس نے پچھلی رات دیکھا تھا. جس کی تعبیر انہوں نے یہ بتائی کہ ایک دن ایسا آئے گا جب انگلستان کے تمام جانور انسانوں کی غلامی سے آزاد ہوں گے اور انہیں اپنی زندگیوں پر اختیار ہوگا. اس دن جانوروں کی ناک میں پڑی نکیل نکل جائے گی، پیٹھ پر لدا بوجھ اتر جائے گا، لگام اور مہمیز ختم ہوجائیں گی، چابک مارنے والے ظالم نہ مار پائیں گے. اور اس دن گندم، جو، چارہ، لوبیا اور سوکھی گھاس سمیت سب کچھ جانوروں کا ہوگا.
بوڑھے میجر نے اس آزادی کے دن کے لیے آج سے اپنے آپ کو تیار کرنے کی تلقین کی اور اس بات پر زور دیا کہ انسان سے لڑائی کے وقت ہمیں ان جیسا نہیں بننا ہے. اگر ہم فتح بھی سمیٹ لیں تب بھی انسانوں کے عادات و اطوار کو نہیں اپنائیں گے. کوئی جانور گھر میں رہے گا نہ بستر پر سوئے گا ,کپڑے پہنے گا نہ شراب پئے گا. سب جانور برابر اور ایک دوسرے کے دوست ہوں گے. اس خواب کے تین دن بعد میجر مر جاتا ہے اور جانور اس کی مشن پر کام شروع کردیتے ہیں.
توقع کے برعکس انقلاب کا یہ سورج ایک سال کے اندر اندر نمودار ہوجاتا ہے. اپنی وسیع معلومات، قابلیت اور عیاری کی بنا پر اب تمام جانوروں کی کمان سوّر سنبھال لیتے ہیں. ان میں سے نپولین اور سنوبال کے نام قابل ذکر ہیں. سنوبال روز بہ روز جانوروں کی فلاح کے لیے کوئی نہ کوئی سکیم اور منصوبہ سامنے لاتا ہے اور جس پر عمل کر کے سب جانور بہت خوش بھی ہوتے ہیں لیکن نپولین کو اس سے ہمیشہ مسئلہ ہوتا ہے اور وہ سنوبال کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بناتا ہے.
ایک دن عام اجلاس میں سنوبال ایک ایسے ہوائی مِل کا منصوبہ پیش کرتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوگی اور اس بجلی سے مشینیں چلا کر جانوروں کی مشقت کم ہوجائے گی لیکن اس دوران نپولین اس منصوبے پر تنقید کرتے ہیں. ابھی یہ بحث جاری ہوتی ہے کہ نپولین کے پالے ہوئے کتے نمودار ہوجاتے ہیں اور سنوبال پر حملہ کردیتے ہیں. سنوبال اینیمل فارم سے بھاگ جاتا ہے اور نپولین یکتا جانوروں کی قیادت سنبھال لیتا ہے.
قیادت سنبھالتے ہی وہ عام اجلاس پر پابندی لگاتا ہے اور فارم کے تمام فیصلوں کا اختیار سوروں کی کمیٹی کے سپرد کرتا ہے جس کے وہ خود صدر ہوں گے. سکویلر کو اپنا ترجمان بناتے ہیں جو نپولین کے فیصلوں سے تمام جانوروں کو باخبر کرے گا.
سکویلر نپولین کے اس فیصلے کا یوں دفاع کرتا ہے “ساتھیو نپولین سے زیادہ کسی کو اس بات پر یقین نہیں کہ سب جانور برابر ہیں. یہی وہ واحد ہستی ہے جو اس بات سے خوش ہوگا کہ تم اپنے فیصلے خود کرو. لیکن کھبی کھبی تم غلط فیصلے بھی کردیا کرتے ہو. ساتھیو! پھر ہمارا کیا بنے گا؟”
اس دوران انسان اینیمل فارم کا قبضہ چھڑانے کے لیے حملہ بھی کردیتے ہے لیکن تمام جانور ان کو بھگا دیتے ہیں.
اب یہاں سے جانوروں کے لیے تکالیف کے دن شروع ہوجاتے ہیں. نپولین مطلق العنان حکمران بن جاتا ہے اور آتے ہی وہ اور اس کی خنزیر برادری آسائشوں کی زندگی بسر کرنے لگتی ہے اور نہ صرف یہ کہ میجر کی تعلیمات کو بھول جاتا ہے بلکہ جانوروں کی بہبود کے لیے پاس کیے گئے تمام قراردادوں کو بھی نظر انداز کرنے لگتا ہے. وہ سوروں کے لیے شراب پینے، کپڑے پہننے، گھروں میں رہنے اور بستروں پر سونے جیسی پابندیاں اٹھا لیتا ہے.
اس دوران باقی جانور سخت سے سخت محنت کرتے ہیں جن میں باکسر سب سے آگے ہوتا ہے اور وہ انقلاب کو کامیاب کرنے کے لیے بِلا تکان کئ کئ گھنٹے کام کرتا ہے. دوسری جانب نپولین انسانوں سے تجارت بھی شروع کردیتے ہیں جس کے لیے اب جانوروں کو کھیتوں سے زیادہ فصل حاصل کرنے کے لیے مزید محنت کرنی پڑتی ہے، گائیوں کو اور زیادہ دودھ دینا پڑتا ہےاور مرغیوں کو پہلے سے زیادہ انڈے سوّروں کے حوالے کرنا پڑتے ہیں. اس تجارت کے واسطے خود جانوروں کی اپنی خوراک بھی کم کردی جاتی ہے اور اتوار کی چھٹی بھی ختم کردی جاتی ہے. لیکن کھیتوں میں کام وہ پورا پورا سال غلاموں کی طرح کرتے ہیں.
ایسے حالات میں جانوروں کی زندگیاں انقلاب سے پہلے والے زمانے سے بھی ابتر ہوجاتی ہیں لیکن حکومتی ترجمان مسٹر سکویلر کاغذ کی ایک لمبی پٹی لئے اعداد و شمار پڑھ کر سناتا رہتا ہے کہ ہم روز بہ روز ترقی کرتے جارہے ہیں اور ہماری زندگیاں پہلے کے مقابلے میں آسان ہوگئی ہیں ہر قسم کی خوراک میں بے مثال اضافہ ہوا ہے، کسی میں دو سو فیصد کسی میں تین سو فیصد یا پانچ سو فیصد.
سکویلر، نپولین کے کرتوتوں کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے کمال کی تاویلیں پیش کرتا ہے جیسے سیب اور دودھ صرف سوّروں کے لیے اس لیے ہیں کیونکہ وہ حکومتی معاملات چلاتے ہیں اور یہ دماغی مشقت ہے جس کے لیے طاقت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب ہم سوّر آپ جانوروں کے لیے ہی کررہے ہیں.
صرف یہی نہیں بلکہ جو جانور نپولین کے احکامات کے بارے میں استفسار کرتا ہے ان پر غداری کے الزامات لگا کر کتوں سے مروا دیا جاتا ہے. سب سے تکلیف دہ سانحہ وہ ہوتا ہے جب سب سے زیادہ محنتی گھوڑے باکسر کو بیمار ہونے پر قصائی کے حوالے کردیا جاتا ہے.
بہرحال انسانوں سے تجارت کی وجہ سے ایسا لگتا تھا کہ فارم اب بہت امیر و کبیر ہوچکا ہے لیکن اس میں رہنے والے جانور امیر نہیں ہوئے تھے سوائے سوّروں اور کتوں کے.
اس دوران کسی کی نظر اس دیوار پر پڑ گئی جس پر انقلاب کے وقت درجہ زیل سات اصول بڑے بڑے حروف میں پینٹ سے لکھے گئے تھے:
دو پیروں پر چلنے والا جانوروں کا دشمن ہے .
۲. چار پیروں یا پروں والا دوست ہے
۳. جانور ایک دوسرے کو قتل نہیں کریں گے
۴. کوئی جانور بستر پر نہیں سوئے گا
۵. کپڑے نہیں پہنے گا
۶. شراب نہیں پئے گا اور سب سے اہم
۷. تمام جانور برابر ہیں.
لیکن اب دیوار پر ان سات اصولوں کی جگہ صرف ایک جملہ لکھا ہوا تھا.
”All animals are equal but some animals are more equal than others”
(تمام جانور برابر ہیں لیکن چند جانور دوسرے جانوروں سے زیادہ برابر ہیں)
تبصرہ
جارج آرویل کی یہ کتاب شروع کرتے ہوئے بچوں کی کہانی لگتی ہے اور اس تناظر میں بورنگ بھی. لیکن اگر اس کے اندر کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرو تو نہ صرف دلچسپی سے بھر پور ہے بلکہ ایک ایک کردار آپ کو اپنے ملک کے سیاستدانوں کی گندی سیاست اور کوکھلے نعروں کی عکاسی کرتے نظر آئے گا-
بنیادی طور پر جارج صاحب نے یہ کتاب سوشلسٹ ریاست روس کو سامنے رکھ کے لکھی تھی کہ کس طرح ایک خاص طبقہ مزدوروں کی امید اور آس کو اپنے پیچھے لگا کہ تخت تک پہنچتا ہے اور پھر نہ صرف یہ کہ کارل مارکس کے افکار کو بھلادیتا ہے بلکہ جن کے کاندھوں پر یہ کھڑے ہوکر سرخ جھنڈے تھامتے تھے اور جن کے ساتھ انہوں نے برابری اور غیر طبقاتی نظام کے وعدے کیے تھے ان لاچاروں کو ہی یہ ریاست کے لیے بھوکوں مارنے پر تُل جاتے ہیں.
یہی صاحبِ تاج و تخت اپنے کرتوتوں سے یہ ظاہر کرتےہیں کہ کہنے کو تو تمام انسان برابر ہے لیکن پھر بھی کچھ انسان د وسروں کے مقابلے امتیاز رکھتے ہیں.
میں جب یہ کتاب پڑھ رہا تھا تو میرے دماغ میں خود بخود جانوروں کے کردار اور یو ایس ایس آر کے اکابرین کا ایک انجان سا تعلق بن رہا تھا جو کچھ یوں ہے
میجر: کارل مارکس
سنوبال: لینن
نپولین: جوزف سٹالن
سوّر: سوشلسٹ پارٹی کے رہنما
کتاب مختصر ہے لہذا پڑھنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے