دور دور شہروں میں
یار دوست رہتے ہیں
رابطے تو قائم ہیں
واسطے سلامت ہیں
اک یہ دل کا رونا ہے
بارہا رلاتا ہے
ہر گزرتے لمحے کا
واسطہ دلاتا ہے
دوستوں سے ملنے کا
بار بار کہتا ہے
“ایک بار مل لیتے”
روز کہتا جاتا ہے
اور میں پشیماں سا
ہاتھ ملتا رہتا ہوں
سوچتا ہی رہتا ہوں
اب اگر چلا جاؤں
دوست ملنے آئے گا؟
اس اگر مگر میں وہ
دوستی نبھائے گا؟
پچھلی ساری باتوں کو
مل کے وہ بھلائے گا؟
راستہ جو کھو جاؤں
راستہ دکھائے گا؟
اپنے شہر میں مجھ کو
ساتھ وہ گھمائے گا؟
بات کرتے کرتے وہ
شعر گنگنائے گا؟
میرے سامنے پھر وہ
میری نظم گائے گا؟
وہ اگر یہ سب باتیں
مان لے تو میں جاؤں!
ورنہ دل کی یہ باتیں
اجنبی سے شہروں میں
رہنے والے یاروں کی
مجھ کو رنج دے کر بھی
مجھ کو روک لیتی ہیں
دوست ہی اگر مجھ سے
یوں نہ ملنے آئے گا
کس نگاہ سے پھر میں
اس کے شہر جاؤں گا؟
اجنبی سے شہروں میں
کون ایسے جاتا ہے؟